ذکر رسول ﷺ
ذکر رسول ﷺ
مولانا عبد الماجد دریابادی کی بہترین کتاب
ذکرِ رسول ﷺ — عشق و عقیدت کا فکری شاہکار
برصغیر کے ممتاز مفسر، ادیب اور مفکر مولانا عبد الماجد دریابادیؒ نے سیرتِ نبوی ﷺ پر جو قلم اٹھایا، وہ محض تاریخی بیان نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا خراجِ عقیدت ہے۔ ان کی کتاب "ذکرِ رسول ﷺ" اسی روحانی وابستگی اور علمی بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔
مصنف کا پس منظر
مولانا عبد الماجد دریابادیؒ ابتدا میں جدید تعلیم اور مغربی افکار سے متاثر تھے، مگر بعد ازاں دینِ اسلام کی حقانیت نے ان کے دل کو منور کیا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کی تفسیر، سیرت اور اسلامی افکار پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اسلوب تحقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی سے بھی بھرپور ہے۔
کتاب کا موضوع و اسلوب
"ذکرِ رسول ﷺ" میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کا بیان محض واقعاتی انداز میں نہیں بلکہ فکری، روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مولانا نے:
حضور ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ
حلم و بردباری
قیادت و حکمت
اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی رحمت
کو نہایت مؤثر اور دل نشین انداز میں پیش کیا ہے۔
ان کا اسلوب نہایت شائستہ، باوقار اور محبت سے لبریز ہے۔ وہ جذباتی مبالغہ سے گریز کرتے ہوئے علمی استدلال اور دلائل کے ساتھ سیرتِ طیبہ کو بیان کرتے ہیں۔
کتاب کی اہمیت
یہ کتاب صرف ایک سیرت کی تصنیف نہیں بلکہ ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے یہ خاص طور پر مفید ہے کیونکہ مولانا نے عقلی سوالات کا جواب بھی محبت و حکمت کے ساتھ دیا ہے۔
"ذکرِ رسول ﷺ" پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ صرف ماضی کی تاریخ نہیں بلکہ آج کی زندگی کے لیے عملی رہنمائی ہے۔
اختتامیہ
مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کی یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو جاننا دراصل اپنی زندگی کو سنوارنے کا نام ہے۔ جب دل میں حضور ﷺ کا ذکر تازہ ہو تو کردار میں نور اور عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں