فضائل اعمال جلد ١

 فضائل اعمال (حصہ١)

دعوت و تبلیغ کی بیحد مقبول کتاب 
فضائل اعمال


نام کتاب :- فضائل اعمال ( جلد ١ )

مصنف :- شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی

صفحات :-  جلد اول ٧٧٢

فائل سائز :- ٣٦ ایم بی

کتاب کے بارے میں :-


مولانا محمد الیاس دہلوی رحمہ اللہ نے اکابر، مشائخ اور اولیاء اللہ سے مشاورت کے بعد دین اسلام کے احیاء کا طریقہ”دعوتِ تبلیغ“ کی شکل میں پیش فرمایا۔ اتباعِ سنت سے سر شار ان لوگوں کی محنت رنگ لائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک خاموش انقلاب برپا ہونا شروع ہوگیا۔ نوجوان، بوڑھے ،بچے مساجد و دینی مکاتب اور خانقاہوں کا ر خ کرنے لگے۔ علماء طلباء کی کھیپ بڑھنا شروع ہو گئی۔ بے نمازی نمازی بننا شروع ہوگئے ، نماز یوں کی تعداد میں برابراضافہ ہوتا چلا گیا۔ مردہ دل زندہ ہونے لگے اور سنت نبوی گھر گھر میں داخل ہونا شرع ہوئی۔
الحمدللہ لوگوں میں دینی شعور بیدار ہوا اور اسلام کی تعلیمات جو صرف کتابوں میں رہ گئیں تھی لوگوں کی زندگیوں میں آنے لگیں ایک جماعت تشکیل پائی جس کا مقصد نہ حصول دولت نہ خواہش شہر ت صرف ایک جذبہ موجزن ہوگیا کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق آجائیں۔ جماعت کے تشکیل پالینے کے بعد اب ضرورت تھی کہ اس کا بنیادی نصاب مر تب کردیاجائے تاکہ اپنے خطوط پررہتے ہوئے کام کو آگے لے جایا جاسکے۔   
اس عظیم کام کیلئے اللہ تعالیٰ نے جس شخصیت کا انتخاب فرمایا دنیا اسے شیخ الحدیث قطب العصر مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔تفسیر و حدیث پر وسعت نظری ،علمی شغف، اصلاح وسلوک کامزاج ،تصنیفی وتدریسی پختگی ،انتظامی صلاحیتوں پردسترس حضرت الشیخ رحمہ اللہ کا خاص امتیاز تھا۔ انہی کے بدولت آپ نے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے اکابر کے حکم پر” چند رسائل“ مرتب فرمائے۔ جنہیں” کتب فضائل اعمال“ کا نام دیا گیا۔ 
تقریباً دنیا کی اکثر زبانوں میں ان کا ترجمہ ہو چکاہے اور خلقِ خدا کی کثیر تعداد ان کی وجہ سے اپنی دنیا وآخرت سنوار رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس فیض کو عام فرمائے اور ہم سب کی نجات کا ذریعہ بنائے.(ماخوذ :- فضائل اعمال پر اعتراضات کا علمی جائزہ ، از الیاس گھمن صاحب) 

اس کتاب کے مقدمہ میں شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :- 

جماعتوں کی نقل و حرکت میں ایسی کتابوں کی ضرورت پیش آئی جس میں ملت کے تمام طبقات مل جل کر صحیح دینی زندگی کی ایک ساخت پر ذہن بنا سکیں اور آپس میں کسی اختلاف یا افتراق کا شائبہ تک نہ آسکے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سے فضائل اعمال" کی کتابیں لکھوائی گئیں؛ 

چنانچہ حکایات صحابہ حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری کے ارشاد پر : " فضائل قرآن مجید حضرت حافظ محمد یسین صاحب کے ارشاد پر : " فضائل نماز فضائل ذکر ، فضائل تبلیغ، فضائل رمضان حضرت مولانا الیاس صاحب کے ارشاد پر اور فضائل صدقات و فضائل حج وغیرہ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کی درخواست پر لکھی گئیں اور مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج مولانا احتشام الحسن صاحب خلیفہ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب نے اپنے شیخ و مرشد کی تعمیل حکم میں تصنیف فرمائی۔ یہ سب کتابیں جماعتوں کی تعلیم میں بے حد مفید ثابت ہوئیں ، عرب و عجم میں ان کے فوائد وبرکات نمایاں طور پر ظاہر ہوئے اور عربی، انگریزی اور مختلف زبانوں میں ان کے ترجمے شائع ہوئے۔

حضرت مولانا محمد الیاس صاحب اپنے ایک گرامی نامہ میں حضرت شیخ " کے نام لکھتے ہیں: "میرے عزیز! اس میں شک نہیں کہ آپ کی ہر طرح کی ہمت اور ہر طرح کی شرکت اس ( تبلیغ) کے فروغ کا سبب ہے، اللہ جل شانہ نے یہ جیسی تبلیغ کی نہایت فائدہ بخش اور اصول اسلام کو حاوی، نہایت سہل اور نہایت عظیم صورت، اس ناچیز کو عطا فرمائی ہے، یہ ناچیز اس نعمت عظیمہ جلیلہ کی قدردانی اور شکر گذاری اور تواضع میں اپنے نفس کو بہت ہی کمزور پاکر اس نعمت کے کفران نعمت سے بہت خائف ہے، 

نیز تمہاری اس ہمت کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بندہ ناچیز کو اس تبلیغ کے (چھ نمبر اور دیگر ضروری اجزاء کو ) اصول قرار دینے میں آپ کی صحبت کو بہت زیادہ دخل ہے، حق تعالٰی شانہ مجھے اس کے شکر کی توفیق بخشی، اللہ کومنظور ہوا اور جیسے کہ آثار ہیں یہ تبلیغ فروغ پکڑے گی، ان شاء اللہ تمہاری تصانیف اور فیوض ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عرب و عجم کو سیراب کریں گی۔ اللہ تعالی تمہیں جزائے خیر دیں، میری اس میں دعا سے ضرور ہی مدد کیجیو اور میں بھی دعا کرتا ہوں“۔

         دوسرا حصہ 

تبصرے